21 ستمبر 2012 - 20:30

امريکا نے بدنام زمانہ دہشتگرد گروہ ايم کے او کا نام دہشتگرد گروہوں کے فہرست سے نکال دينے کا فيصلہ کيا ہے -

ابنا: امريکا نے اس بہانے سے کہ دہشتگرد  تنظيم ايم کے او کے اراکين کو عراق کي اشرف چھاؤني سے لبرٹي چھاؤني ميں منتقل کيا جاچکا ہے اور بقول امريکا کے اس گروہ نے دو ہزار تين کے بعد دہشتگردانہ کاروائياں انجام نہيں دي ہيں، اس لئے اس کا نام دہشتگرد تنظيموں کي فہرست سے نکالنے کا فيصلہ کيا ہے –اس رپورٹ ميں بتايا گيا ہے کہ امريکي وزير خارجہ ہليري کلنٹن اس تعلق سے حتمي فيصلہ کرچکي ہيں-يہ ايسي حالت ميں ہے کہ ايران ميں ايٹمي سائنسدانوں پر دہشتگردانہ حملوں کے لئے صيہوني حکومت کي تنظيم موساد نے ايم کے او کے اراکين سے بھي کام ليا ہے - اس کے علاوہ عراقي حکام نے اعلان کيا ہے صدام حکومت کے زمانے ميں عراق کے قتل عام ميں مشارکت کے علاوہ عراق پر امريکي قبضے کے بعد بھي  دہشتگردانہ کاروائيوں ميں ايم کے او کے اراکين ملوث رہے ہيں -ايم کے او کي حمايت اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ دہشتگردي کے تعلق سے امريکا کے دوہرے معيار ہيں اور وہ کھلے عام اس پر عمل کرتا ہے - امريکا اور يورپي اتحاديوں کي نظر ميں وہ دہشتگردانہ گروہ اچھے ہيں اور ان کي حمايت کي جاسکتي ہے جو اس کے مخالفين کے خلاف کاروائياں انجام ديں - چنانچہ امريکا نے ايم کے او کي ہميشہ حمايت کي ہے اور اس گروہ کے اراکين کو عراق سے نکالنے ميں امريکي حمايت سب سے بڑي رکاوٹ رہي ہے  -       حقيقت يہ ہے کہ ايم کے او کے اراکين پر ايران اور عراق ميں دہشتگردانہ کاروائياں انجام دينے ، اور بہت سے رہنماؤں اور دانشوروں نيز دونوں ملکوں کے   بے گناہ عوام کے قتل عام ميں ملوث ہونے کے جرم پر مقدمہ چلنا چاہئے ليکن امريکا اس گروہ کي حمايت کرہا ہے اور اس کو کيفر کردار تک پہنچانے اور اس گروہ کے خاتمے ميں رکاوٹ ہے –در اصل امريکا اس دہشتگرد گروہ کو باقي رکھنا چاہتا ہے تاکہ ماضي کي طرح آئندہ بھي اس گروہ سے اپنے مذموم مقاصد کے لئے کام ليتا رہے اور دہشتگرد گروہوں کي فہرست سے اس کا نام اس لئے نکالنا چاہتا ہے تاکہ اس گروہ کي حمايت کو قانوني حيثيت دے سکے -

.....

/169